Friday, October 4, 2013

اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
 
دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں؟
 
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہراک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
 
شاہیں جہاں تھا آج وہ کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملّا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے
 
مر مر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہراک شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
 
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و رُوباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
 
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندۂ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا ہم چھُٹ گئے اس بارِ گراں سے
 
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے
اُگتے ہیں تہِ سایۂ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تنِ خستہ پہ اب دانت ہیں سب کے
 
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانئ جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پرجو خودی کا
مر، مر کے جئے ہے کبھی  جی ، جی کے مرے ہے
 
دیکھو توذرا محلوں کے پردوں کواٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سو گئی طاؤس پہ آکر
 
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا توبڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کُھول کے دیکھا نہیں قرآن
 
کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈوھنڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
 
اقبالؒ تیرا دیس کہاں ہےکہاں جاؤں؟