Monday, July 21, 2014

ادارہ ذمہ دار نہیں ہے - Organization is not responsible

  
میرے کاروبار  نسبت سے اکثر بین الاقوامی رسائل جریدے نظر سے نظر سے گذرتے ہیں. آج یہ مضمون لکھنے کا خیال یوں آیا کہ ایک مضمون جس میں دنیا کے بڑے بڑے نام مثلا نوکیا ، فیس بک  اور ایپل جیسی کمپنیوں کے ہفتہ وار اتار چڑھاؤ پر ایک تفصیلی رپورٹ تھی. 

اچانک ذہن میں ایک انوکھا خیال آیا کہ علما فرماتے ہیں کے حدیث شریف کا مفہوم ہے کے امّت کے اعمال پیر کے روز الله کے سامنے پیش کے جاتے ہیں. شاید اسی طرح کا اتار چڑھاؤ ہمارے اعمال  ایمان کا بھی ہوتا ہو گا اور اس کا ایک مربوط ریکارڈ الله کے یہاں محفوظ ہے. اب اگر جیسی ہماری حالت ہے، الله کے یہاں ہمارے ایمان اور اعمال لال رنگ کے حاشیے سے ہر ہفتے پہنچتے ہونگے تو ہمارا کس قسم کا ریکارڈ بن رہا ہوگا؟

دنیا بھر میں سرمایہ کاری کرنے والے جب اس قسم کی رپورٹ  پڑھتے ہیں تو اس رپورٹ کے اعداد و شمار کو زیادہ سے کم کی ترتیب کی طرف سے دیکھتے ہیں کہ آیا وہ کونسی کمپنی ہے جو ترقی میں اوپر ہی اوپر ہے.اور جو کمپنی ترقی میں نیچے جا رہی ہے وہ اس فہرست میں خود بہ خود آخر میں چلی جاتی ہے. تو اس مناسبت سے سرمایہ کار کی دلچسپی اوپر اٹھتی ہوئی  کمپنی میں ہوتی ہے .

سوچنے کی بات ہے کہ جب ہمارے اعمال کی فہرست اوپر جاتی ہوگی تو جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو فہرست کے سب سے آخری حصّے میں ہونگا . تو کیا میرا رب میری اس کار کردگی سے خوش ہوگا؟ اور جب روز قیامت میرا اعمال نامہ میرے سامنے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ رکھا جاے گا تو میں یہ کہ سکوں گا کہ مجھے کار کردگی بہتر بنانے کے لئے تھوڑا  وقت دیا جاے ؟

اور پھر وہ مرحلہ جب میرے حقوق العباد کے بدلے میری نیکیاں اسے  دے دی جائیں گی اور کم ہونے کی صورت میں اسکے گناہ میرے کھاتے میں ڈال دئیے جائیں گے تو میرے نامہ اعمال کی حالت کیا ہو جاے گی ؟ الله اپنا رحم فرماے . 

آج جسے کامیابی سمجھا جا رہا ہے اور نئی نسل کو کامیابی کہ کر بتایا جا رہا ہے وہ عیّاشی سے بھرپور طرز زندگی، پھیلا ہوا کاروبار، مالدار اور عہدہ دار لوگوں سے تعلق اور انتہائی منافع ہے . ہماری صلاحیتوں اور وقت کو پورے کا پورا دنیا کمانے کے لیے لگا دینا اور نفع کے علاوہ کچھ بھی نہ سننا اور سمجھنا ایک کامیاب انسان کی نشانیاں بتائی جا رہی ہیں

یہاں آکر اس زندگی کی طرف ذرا دیر کے لیے غور کرنا ضروری ہوجاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی اور وہاں زمین پر بنایا ہوا گھر، دفتر، گاڑی اور کرنسی جا نہیں سکتی.. میری کار کردگی جو ہر پیر کو الله کے سامنے پیش ہوتی ہے اس میں تیر کا نشان نیچے کی طرف ہے . اپنی کار کردگی بہتر بنانے کے لیے چند سوالات کو سامنے رکھیں گے تو انشا الله کار کردگی بہتر سے بہتر ہوتی چلی جاے گی اور جو وقت دیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک سیکنڈ بھی اضافی نہیں ملے گا تو یہ وقت بھی کام میں آجاے گا. مثلا.

عمر گزر رہی ہے. جوانی خرچ ہو رہی ہے. مال کمایا جا رہا ہے. اور خرچ بھی کیا جارہا ہے.کتابوں، بیانات، تجزیات، اور دیگر سے علم اور معلومات کا پہاڑ بھی حاصل کیا جا رہا ہے. صرف ہماری کمزوری ہے تو عمل کی اور یہ کمزوری ہم پر مختلف اقسام کی خوشنما پیکنگ میں لادی گئی ہے. سنا، پڑھا اور اپنے تجزیات کیے اور الله معاف کرے کہ کر اپنی دنیا میں لگ گئے. اور وہاں ہمارا ریکارڈ خراب کا خراب ہی رہا

اگر صرف یہی چیز سوچ میں شامل ہو جاے کہ دنیا کا مایہ ناز ڈاکٹر بھی ٹی وی یا کسی اخبار میں یہ بیان دے جس کو پیٹ میں درد ہو وہ چھ گولیاں بخار کی ایک ساتھ خالی پیٹ کھا لے تو سننے والا اپنے ڈاکٹر کے پاس جاکر مشورہ ضرور کرے گا کہ ایسا سنا ہے کیا یہ ٹھیک ہے؟ بیشک ٹی وی یا اخبار والا ڈاکٹر نوبل انعام یافتہ ہو. مگر آج کسی سے بھی کسی سنّت کا تذکرہ کیا جاے تو آگے سے دلیل آتی ہے کے فلاں چینل پر یا اخبار میں ایک بھانڈ نے کہا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہے . الله اکبر  غور کرنے کی بات یہ ہے کے ایک چھوٹا سا جملہ نظر سے گزرتا ہے 

"ادارہ ذمہ دار نہیں ہے "

تو شیطان بھی روز قیامت ہم پر ہنس رہا ہوگا اور مذاق اڑاے گا اور یہی کہے گا کیونکہ الله نے اسے وسوسہ ڈالنے تک محدود رکھا ہے عمل انسان کے اختیار میں ہے اور اسی پر سزا و جزا کا نظام ہے

.