Thursday, November 12, 2015

مسجد کی ٹوپی

سر کا ڈھانکنا ایک مستقل سنّت ہے . مگر اس پوسٹ کے لکھنے کی وجہ سنّت پر بحث کرنا نہیں ہے .

اب تو خیر یہ رواج کافی حد تک کم ہو گیا ہے مگر یہ بات سب کے مشاہدے میں ہوگی کہ مساجد میں ایک ڈبہ رکھا جاتا تھا جس میں ٹوپیاں پڑی رہتی تھیں. اور نمازی نماز پڑھتے وقت وہ ٹوپی لگا کر نماز پڑھتے تھے اور واپس جاتے وقت اسے پھر سے ڈبے میں رکھ دیتے تھے.  اکثر ان بیچاری ٹوپیوں کا حال بہت خراب ہو جاتا تھا. میلی کچیلی اور ٹوٹی پھوٹی بھی. پہلے وقتوں میں تنکوں سے تیار کردہ ٹوپیاں استعمال ہوتی تھیں اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ پلاسٹک اور پھر مختلف رنگوں میں آنے لگیں. مسجد پر لگے "لیبل" کے مطابق اسکا رنگ اندر موجود ہوتا تھا.

اب اس پوری تمہید کو آج کے دور میں اسلام کی حالت پر رکھ کر سوچیے ؟ جی ہاں، آج ہم نے اسلام کے ساتھ بھی ووہی کچھ کیا ہے. کیسے؟

ہماری زندگی میں دین مسجد میں قدم رکھنے پرشروع ہوتا ہے اور مسجد سے باہر نکلنے  پر اگلی نماز تک موقوف ہو جاتا ہے. آج ہم صرف مسجد کے اندر کے مسلمان رہ گئے ہیں. معاشرت، معاملات، اخلاقیات اور عدل جس میں میری ناقص راءے کے مطابق ستر فی صد دین موجود ہے، خال خال کہیں دکھائی دیتا ہے اور وہ بیچارا  بھی بے وقوف کہلانے کے ساتھ ساتھ ملامت اور تنقید کی زد میں ہی رہتا ہے. تو بے اختیار میرے آقا سرور کائنات صلّ اللہ علیہ وسّلم کے مبارک الفاظ یاد آتے ہیں کہ دین پر چلنا انگاروں کو ہاتھ میں لینے جیسا ہوگا.

ہم سوچیں کہ کیا اسلام صرف عبادت کا نام ہے؟ اور پھر مجھ جیسے بے عمل انسان کے اندر کا مسلمان تو اس وقت زیادہ جاگتا ہے جب کسی نماز کے پابند با ریش انسان کو وعدہ خلافی یا ٹال مٹول کرتے ہوے یا پھر جھوٹ بولتے دیکھوں. پھر سونے پہ سہاگہ "ہماری مسجد تمھاری مسجد" ہے. اپنی مسجد نہ ملنے کی وجہ سے جماعت کی نماز کا ترک کرنا یہاں تک جماعت کے ترک ہو جانے کے بعد نماز بھی قضا ہو جاے، یہ عام بات ہو گئی ہے. اور اب تو نوبت یہاں تک آگئی کے اپنے علاوہ سب کو باطل سمجھنا. عربی میں لکھی ہی کتابوں کا اردو ترجمہ اوروہ  بھی کسی ایسے مترجم کا جس سے صرف یہ پوچھ لیا جاے کہ عربی میں "آپ" "تم" اور "تو" سے ایک ایک کلمہ بنا کر دیجیے تو جواب میں پچاس سے سو سال پرانی وہ پوری کھیپ جس نے اپنی پوری زندگی صرف عربی زبان و بیان میں صرف ہوئی ان پر تنقید کا پہاڑ توڑیں گے.

جھوٹ، بہتان، الزام، غیبت، سنی سنائی کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنا اور اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کسی بھی بات کو قران و حدیت سے منسوب کرنا گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا.  بس اسلام اور اسکے احکامات "مسجد کی ٹوپی" کی طرح نماز کے وقت میں عبادت کرنے کے لیے یا پھر رمضان اور کچھ اپنی طرف سے مخصوص کے گئے دنوں تک محدود ہیں.

باطل ہمارے گھر کی دہلیز پر ہمیں لوٹنے اور برباد کرنے کے لیے بلکل تیار ہے اور ہم اسے جواب میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی رکو میں پہلے "چیک" کر لوں کے وو ہمارے مکتبہ فکر والا ہے یا کہ "کافر" اور "گمراہ". اور چونکے یہ نماز کا وقت نہیں ہے اس لیے "ٹوپی" میں مسجد میں رکھ کر باہر آگیا ہوں اور اب اسلام اگلی نماز تک نعوذ باللہ موقوف ہے.

الله سے دعا ہے کہ

"دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے"
"وہ  بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں"
"عزائم کو سینوں میں بیدار کردے"
"نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے"