Thursday, November 12, 2015

بیکار آدمی

آج کا مضمون میں ایک واقعے سے شروع کرنا چاہتا ہوں .
دو دوست جنگل میں جا رہے تھے کہ اچانک ایک شیر آگیا یہ دیکھ کر ایک دوست اپنے  امپورٹڈ  جوتے بیگ میں سے نکالنے لگا یہ دیکھ کر اس کے دوست نے پوچھا " کیا یہ جوتے پھن کر تو شیر سے زیادہ تیز دوڑ لے گا؟" اسکا جواب ہی میرا مضمون ہے اسکا جواب تھا
"شیر سے تو زیادہ تیز نہیں البتہ تجھ سے تو زیادہ تیز دوڑ لوں گا نا "

آج کا دور اسکے اس جواب کی تشریح ہے. آج ہم سب کا فون اٹھانا یا نہ اٹھانا، میسج کا جواب دینا یا نہ دینا، دعوت  جانا، کام سے کچھ زیادہ وقت بیٹھنا یا نہ بیٹھنا ، سب کا سب سامنے والے کی سٹیٹس پر منحصر ہے. آپ سلام کے جواب کو ہی لے لیجیے. ہمارا "وعلیکم اسسلام" کے وقت تاثر اس  منحصر ہے کے  دنیاوی اعتبار سے "بڑا" آدمی ہے یا چھوٹا. اگر ہمارے دفتر میں صرف دو مہمانوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور تیسرا آجانے کی صورت میں ہم سوچتے ہیں کے کسی کو کھڑا کروں؟ دوسری کرسی منگواؤں؟ یا آنے والے کو ٹہلا دوں؟

اخلاق اب "کام کے آدمی" اور "بے کار آدمی" کے درمیان ہی گردش کرتے ہیں. صاحب ثروت اپنے آپ کو عزت کا حقدار سمجھنے لگے ہیں اور بے چارہ سفید پوش ذلیل ہونے کے ڈر سے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا چھوڑ رہا ہے. پندرہ سے بیس منٹ کی نشست میں لوگ "الله کا شکر ہے" لگا کر اپنی بڑائ بھی جتاتے ہیں اور "بڑا بول نہیں بولتا" لگا کر اپنے طاقتور ہونے کو ثابت بھی کرتے ہیں.

میرے  اور آپکے موبائل فون میں ایک وقت میں ١٠٠ سے زیادہ نمبر نہیں ہوتے تھے اور آج جب روابط کا بھنڈار ہے ہم عید تک کی مبارکباد کو سے آے ہوے میسج کو کو فارورڈ کر کے  مطمئن ہو جاتے ہیں.امید کی ایک کرناس وقت نظر آتی ہے جب کوئی تنگ دست دوسرے تنگ دست کی اپنے محدود وسائل کے باوجود مدد کر رہا ہوتا ہے.

مال کی محبّت بھی عجیب ہے. وہ چیز جس کی اصل قدر دو تین سو روپے سے زیادہ نہیں ہوتی ہم اسے ایک ہزار میں خوشی خوشی لے لیتے ہیں اور پھر اس برانڈ کے شاپنگ بیگ کا بھی اپنا ایک " ٹور " ہوتا ہے جبکہ بیچارا پھل والا پچاس کے ساٹھ  مانگ لے تو " حلال " اور " جائز " پر فضائل سناتے ہیں.باطل نے اپنی سوچ اور تھیوری کو  عمدہ طریقے سے ہمارے معاشرے کی رگوں میں اتار دیا.
" مارکس " اور " لینن " پڑھنے والوں سے بھلا اور امید بھی  کیا کی سکتی ہے . آج مرے کچھ دوست اس منڈی میں لوگوں کو انسانیت کو نفع پہنچانے والی نیت کے ساتھ کاروبار کرنے پر قائل کر رہے ہیں. اللہ ان کو بہترین جزاء عطا فرماے. مگر کیا آج معاملات سے متعلق باریک سے باریک بات کا جواب آسانی سے نہیں مل رہا؟ کیا سود، ذخیرہ اندوزی کی قباحتیں کسی سے ڈھکی چھپی ہیں؟

الله ہم سب کا ظاہر اور باطن ایسا بنا دے جو اسے پسند ہے. ہم سب کے  مسائل حل ہی اس وقت ہونگے جب ہم دین کو ہر چیز پر فوقیت نہیں دیتے. جب الله کا حکم مقدّم رہے گا تو خیر ہی خیر پھیلے گی. جب ہماری یہ سوچ کہ "بیکار آدمی" ہے ہمارے اندر رہے گی تو ہمیں بھی ایک وقت میں "بیکار آدمی" ہی بنا دیا جاے گا.

مسجد کی ٹوپی

سر کا ڈھانکنا ایک مستقل سنّت ہے . مگر اس پوسٹ کے لکھنے کی وجہ سنّت پر بحث کرنا نہیں ہے .

اب تو خیر یہ رواج کافی حد تک کم ہو گیا ہے مگر یہ بات سب کے مشاہدے میں ہوگی کہ مساجد میں ایک ڈبہ رکھا جاتا تھا جس میں ٹوپیاں پڑی رہتی تھیں. اور نمازی نماز پڑھتے وقت وہ ٹوپی لگا کر نماز پڑھتے تھے اور واپس جاتے وقت اسے پھر سے ڈبے میں رکھ دیتے تھے.  اکثر ان بیچاری ٹوپیوں کا حال بہت خراب ہو جاتا تھا. میلی کچیلی اور ٹوٹی پھوٹی بھی. پہلے وقتوں میں تنکوں سے تیار کردہ ٹوپیاں استعمال ہوتی تھیں اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ پلاسٹک اور پھر مختلف رنگوں میں آنے لگیں. مسجد پر لگے "لیبل" کے مطابق اسکا رنگ اندر موجود ہوتا تھا.

اب اس پوری تمہید کو آج کے دور میں اسلام کی حالت پر رکھ کر سوچیے ؟ جی ہاں، آج ہم نے اسلام کے ساتھ بھی ووہی کچھ کیا ہے. کیسے؟

ہماری زندگی میں دین مسجد میں قدم رکھنے پرشروع ہوتا ہے اور مسجد سے باہر نکلنے  پر اگلی نماز تک موقوف ہو جاتا ہے. آج ہم صرف مسجد کے اندر کے مسلمان رہ گئے ہیں. معاشرت، معاملات، اخلاقیات اور عدل جس میں میری ناقص راءے کے مطابق ستر فی صد دین موجود ہے، خال خال کہیں دکھائی دیتا ہے اور وہ بیچارا  بھی بے وقوف کہلانے کے ساتھ ساتھ ملامت اور تنقید کی زد میں ہی رہتا ہے. تو بے اختیار میرے آقا سرور کائنات صلّ اللہ علیہ وسّلم کے مبارک الفاظ یاد آتے ہیں کہ دین پر چلنا انگاروں کو ہاتھ میں لینے جیسا ہوگا.

ہم سوچیں کہ کیا اسلام صرف عبادت کا نام ہے؟ اور پھر مجھ جیسے بے عمل انسان کے اندر کا مسلمان تو اس وقت زیادہ جاگتا ہے جب کسی نماز کے پابند با ریش انسان کو وعدہ خلافی یا ٹال مٹول کرتے ہوے یا پھر جھوٹ بولتے دیکھوں. پھر سونے پہ سہاگہ "ہماری مسجد تمھاری مسجد" ہے. اپنی مسجد نہ ملنے کی وجہ سے جماعت کی نماز کا ترک کرنا یہاں تک جماعت کے ترک ہو جانے کے بعد نماز بھی قضا ہو جاے، یہ عام بات ہو گئی ہے. اور اب تو نوبت یہاں تک آگئی کے اپنے علاوہ سب کو باطل سمجھنا. عربی میں لکھی ہی کتابوں کا اردو ترجمہ اوروہ  بھی کسی ایسے مترجم کا جس سے صرف یہ پوچھ لیا جاے کہ عربی میں "آپ" "تم" اور "تو" سے ایک ایک کلمہ بنا کر دیجیے تو جواب میں پچاس سے سو سال پرانی وہ پوری کھیپ جس نے اپنی پوری زندگی صرف عربی زبان و بیان میں صرف ہوئی ان پر تنقید کا پہاڑ توڑیں گے.

جھوٹ، بہتان، الزام، غیبت، سنی سنائی کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنا اور اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کسی بھی بات کو قران و حدیت سے منسوب کرنا گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا.  بس اسلام اور اسکے احکامات "مسجد کی ٹوپی" کی طرح نماز کے وقت میں عبادت کرنے کے لیے یا پھر رمضان اور کچھ اپنی طرف سے مخصوص کے گئے دنوں تک محدود ہیں.

باطل ہمارے گھر کی دہلیز پر ہمیں لوٹنے اور برباد کرنے کے لیے بلکل تیار ہے اور ہم اسے جواب میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی رکو میں پہلے "چیک" کر لوں کے وو ہمارے مکتبہ فکر والا ہے یا کہ "کافر" اور "گمراہ". اور چونکے یہ نماز کا وقت نہیں ہے اس لیے "ٹوپی" میں مسجد میں رکھ کر باہر آگیا ہوں اور اب اسلام اگلی نماز تک نعوذ باللہ موقوف ہے.

الله سے دعا ہے کہ

"دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے"
"وہ  بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں"
"عزائم کو سینوں میں بیدار کردے"
"نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے"





Thursday, June 11, 2015

مسلمانوں، ہم تمہارا گریبان ضرور پکڑیں گے



دنیا سمٹ گئی اور کمپیوٹر کھولتے ہی آپکو سچی جھوٹی، تعریفی اور تنقیدی خبریں نظر آنا شروع ہوگئیں. اس پوسٹ کو لکھنے کی وجہ برما اور صرف برما ہے. 

ایک  مہینہ ہوگیا ہے مگر کوئی اس خبر کی تائید یا تردید کرنے کو تیار  نہیں ہے کے آیا ذبح کئے ہوے بچے جلی ہوئی لاشیں اور کھال اترے ہوے جسموں کی تصاویر سچی ہیں یا جھوٹی. بظاہر یہ مسلمانوں پر کفّار کا تشدّد اور ظلم کی عظیم مثال  ہے مگر اس سے ہم سب ننگے ہوگئے. الیکشن کمیشن، دھاندلی، شیر، بلا ، تیر اور پتنگ اور ان سب میں جو زیادہ منسلک ہےوہ ترازو ہے. ہمیشہ کی طرح ہماری قوم نے  جلوس نکالے اور اخباروں اور سوشل میڈیا میں خوبصورت پوز والی تصاویر اور ان سب سے بڑھ کر یہ کے ہماری ایمانی غیرت کا معیار کسی پوسٹ یا تصویر کےشیئر  کرنے یا نہ کرنے پر ہے.

یہ جملے مثال کے طور پر "اگر ایمان ہے تو شیئر کریں"  "شیئر کر کے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں"وغیرہ وغیرہ. آپ روز دیکھتے ہونگے. بھارت کے بیان پر شور شرابا کرتے ہیں اور کرنا چاہیے مگر وو لوگ جن کے گلے صرف اس لیےکاٹے  ہیں کہ وہ لا الہٰ الاللہ کہنے والے ہیں، ان کا کیا؟ اور ہم بڑے  فخر سے غوری، ٹیپو، بابر اور  فاتحین کا  تذکرہ کرتے ہیں جیسے ہم انکی فوج میں شامل تھے. آج بطور مسلمان شدّت سے اپنی بیچارگی اور لاچاری کا احساس ہو رہا ہے کہ کل یہی تلواریں خدانخواستہ ہمارے سروں پر چلنے لگیں گی تو بھی ہم فیس بک اور ٹویٹر جہاد کریں گے اور زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے ایمانی ذمےداری سے دستبردار ہونگے؟

خدا کے لیے، اگر جس طرح سے آواز اٹھانی چاہیے اس طرح نہیں اٹھا سکتے تو کم از کم ان مظلوموں کی لاشوں اور انکے برباد خاندانوں کا تماشا تو نہ بنائیں. بلے، شیر، ترازو، تیر، رکشا، اور پتنگ والے اپنے سیاسی کارکن کے زخمی ہونے پر پورا شہر سر پر اٹھا لیتے ہیں تو یہ تو مسلمان ہیں.... مجبور، مظلوم اور بے کس مسلمان... ان کی آسمان کی طرف روتی  نگاہوں سے دیکھتی ہی تصویریں، اپنے چھوٹے  بچوں کے کٹے ہوے گلے والی لاشوں کو گود میں لیے ہے تصویریں، ایک لائن میں رکھی  جلی ہوئی  لاشوں کی تصویریں، کیا ہمارے جسم پر لگے ہے ایک بھی رویں کو حرکت نہیں دیتیں.... 

حق اور سچ کے ٹیلی ویژن پر  کنڈیشن کمروں میں گرما گرم چاۓ کا کپ ہاتھ میں لے کر شوشے چھوڑتے ہوے اینکرز،  کیمرے کے سامنے جھوٹا اور بناوٹی جذباتی انداز اختیار کرنے والے تجزیہ نگار (میں جھوٹا اور بناوٹی ہی کہوں گا) کیونکے اپکا ایک ایک لفظ لاکھوں لوگ سنتے ہیں... اور جو بکتا بھی ہے... تو کیا ایک جملہ کسی بھی پروگرام کے دوران  "برما" کے لیے نہیں نکلتا..

ان سطور تک  کافی خون ٹپکا چکا... یا الله مجھے منافق ہونے سے بچا.. 

کشاد در دل سمجھتے ہیں جس کو، ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے، وو بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں 
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے، نگاہ مسلمان کو تلوار کر دے.

شاید ہماری قوم میں تو کوئی ایسا نہیں.. مگر دنیا میں کہیں تو کوئی صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد ضرور ہوگا.

Monday, September 8, 2014

"او سیاست دانو" "او میڈیا والو" "او مقتدر حلقو"



پچھلے چند ہفتوں سے کمنٹس اور ریمارکس کا طوفان برپا ہے. مجھ سمیت ہر کوئی حسب توفیق اپنا اپنا حصّہ ملا رہا ہے. ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر ہے. الزامات کے جواب میں الزامات اور ایک گالی کے جواب میں گالیوں کا بھنڈار. ایک بات جو زیادہ تکلیف دہ ہے وہ یہ کہ سنی سنائی کا بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دینا اور اس "کار خیر" میں سوشل میڈیا نے مفت کی تفریح فراہم کر دی ہے. ایک مفت کا اکاؤنٹ بناؤ اور الٹ دو جتنی گندگی الٹنی ہے. 

صد افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ عوام تو عوام ، لیڈران نے بھی حد کر دی ہے.ایک عجیب اور واہیات حرکات کا ایک کے بعد ایک برپا ہونا جہاں عوام کو زہر میں ڈبو رہا ہے وہاں "گرین پاسپورٹ " کی رہی سہی عزت بھی  مٹی میں مل رہی ہے . مجھ جیسے کوڑھ دماغ لوگ بھی اس کا نتیجہ  نکال رہے ہیں کہ عوامی موضوع پر کوئی بات کرنے کے لیے تیّار نہیں ہے. اور پھر ٹی وی کے تجزیات خدا کی پناہ. بال کی کھال  اور پھر اس کھال سے پھر بال ڈھونڈنا. بہت اچھی روش ہے کے واقعات اور بیانات کو ہر زاویے سے پرکھا جاے تاکہ سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جا سکے. مگر مجھ جیسے ناکارہ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ہوتی تو ذاتی راے یا اندازہ ہے، مگر یہ جہاں ہمیں سوچنے کا نیا زاویہ دیتا ہے وہا ان کے لیے بھی نیا "آئیڈیا" ہوتا ہے جو پردے کے پیچھے رہ کر ہمارے ملک کا تماشا دیکھتے یا بناتے ہیں.

اگر ایک پیراے میں حالات کو بینڈ کیا جاے تو بات بہت سادہ ہے.مگر اس سادہ سی بات نے جہاں بہت سے لوگوں کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے وہاں سب نے اپنی ذات کو ملکی مفاد سے مقدّم کر دیا ہے. اور سچی بات ہے کہ مجھے ذاتی طور پر ایسا محسوس ہو رہا ہے چیزوں کو پیچیدہ در پیچیدہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے. مخالف سے ثبوت مانگنے والا خود ثبوت دینے کے لیے تیار نہیں ہے. کسی کو ان سب کے پیچھے فوج نظر آرہی ہے تو کسی کو بیرونی طاقتیں.کوئی اس کو آنا پرستی کیہ رہا ہے تو کوئی اقتدار کی ہوس. اور اس پر ستم یہ کہ ہر آدمی "بہت بڑے راز " سے پردہ اٹھانے کی دھمکی دے رہا ہے تاکہ اپنا "چورن" بھی بیچ سکے .

حل بہت آسان ہے اگر کچھ ایسے لوگ خود سے آگے آئیں جن پر دونوں فریقین کو اعتماد ہو. بس صرف ایک سوال ہے کے اتنے سارے ان،انکشافات کے بعد پورے پاکستان میں ایسے دس پندرہ لوگ دستیاب ہیں جو بااختیار بھی ہوں اور جن کا دامن صاف بھی ہو. "او سیاست دانو"  "او میڈیا والو"  "او مقتدر حلقو" خدا کے لیے ایسے دس پندرہ لوگ ڈھونڈ دو جن کے درمیان میں آنے اور اعتماد حاصل کرنے کے ایک ہفتے بعد ان کے سکینڈل کے ٹکر بھی نہ چلنا شروع نہ ہو جایں اور ان میں سے بھر نکل کر کوئی پریس کانفرنس کی دھمکیاں نہ دے. خدا کے لیے ایسے صرف دس پندرہ لوگ پورے پاکستان میں سے ڈھونڈ لو تاکہ میں اپنے بچوں کو قسم کھا کر کہ سکون کہ "الله کی قسم پورا پاکستان کرپٹ نہیں ہے" 

باسط یوسف

Monday, July 21, 2014

ادارہ ذمہ دار نہیں ہے - Organization is not responsible

  
میرے کاروبار  نسبت سے اکثر بین الاقوامی رسائل جریدے نظر سے نظر سے گذرتے ہیں. آج یہ مضمون لکھنے کا خیال یوں آیا کہ ایک مضمون جس میں دنیا کے بڑے بڑے نام مثلا نوکیا ، فیس بک  اور ایپل جیسی کمپنیوں کے ہفتہ وار اتار چڑھاؤ پر ایک تفصیلی رپورٹ تھی. 

اچانک ذہن میں ایک انوکھا خیال آیا کہ علما فرماتے ہیں کے حدیث شریف کا مفہوم ہے کے امّت کے اعمال پیر کے روز الله کے سامنے پیش کے جاتے ہیں. شاید اسی طرح کا اتار چڑھاؤ ہمارے اعمال  ایمان کا بھی ہوتا ہو گا اور اس کا ایک مربوط ریکارڈ الله کے یہاں محفوظ ہے. اب اگر جیسی ہماری حالت ہے، الله کے یہاں ہمارے ایمان اور اعمال لال رنگ کے حاشیے سے ہر ہفتے پہنچتے ہونگے تو ہمارا کس قسم کا ریکارڈ بن رہا ہوگا؟

دنیا بھر میں سرمایہ کاری کرنے والے جب اس قسم کی رپورٹ  پڑھتے ہیں تو اس رپورٹ کے اعداد و شمار کو زیادہ سے کم کی ترتیب کی طرف سے دیکھتے ہیں کہ آیا وہ کونسی کمپنی ہے جو ترقی میں اوپر ہی اوپر ہے.اور جو کمپنی ترقی میں نیچے جا رہی ہے وہ اس فہرست میں خود بہ خود آخر میں چلی جاتی ہے. تو اس مناسبت سے سرمایہ کار کی دلچسپی اوپر اٹھتی ہوئی  کمپنی میں ہوتی ہے .

سوچنے کی بات ہے کہ جب ہمارے اعمال کی فہرست اوپر جاتی ہوگی تو جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو فہرست کے سب سے آخری حصّے میں ہونگا . تو کیا میرا رب میری اس کار کردگی سے خوش ہوگا؟ اور جب روز قیامت میرا اعمال نامہ میرے سامنے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ رکھا جاے گا تو میں یہ کہ سکوں گا کہ مجھے کار کردگی بہتر بنانے کے لئے تھوڑا  وقت دیا جاے ؟

اور پھر وہ مرحلہ جب میرے حقوق العباد کے بدلے میری نیکیاں اسے  دے دی جائیں گی اور کم ہونے کی صورت میں اسکے گناہ میرے کھاتے میں ڈال دئیے جائیں گے تو میرے نامہ اعمال کی حالت کیا ہو جاے گی ؟ الله اپنا رحم فرماے . 

آج جسے کامیابی سمجھا جا رہا ہے اور نئی نسل کو کامیابی کہ کر بتایا جا رہا ہے وہ عیّاشی سے بھرپور طرز زندگی، پھیلا ہوا کاروبار، مالدار اور عہدہ دار لوگوں سے تعلق اور انتہائی منافع ہے . ہماری صلاحیتوں اور وقت کو پورے کا پورا دنیا کمانے کے لیے لگا دینا اور نفع کے علاوہ کچھ بھی نہ سننا اور سمجھنا ایک کامیاب انسان کی نشانیاں بتائی جا رہی ہیں

یہاں آکر اس زندگی کی طرف ذرا دیر کے لیے غور کرنا ضروری ہوجاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی اور وہاں زمین پر بنایا ہوا گھر، دفتر، گاڑی اور کرنسی جا نہیں سکتی.. میری کار کردگی جو ہر پیر کو الله کے سامنے پیش ہوتی ہے اس میں تیر کا نشان نیچے کی طرف ہے . اپنی کار کردگی بہتر بنانے کے لیے چند سوالات کو سامنے رکھیں گے تو انشا الله کار کردگی بہتر سے بہتر ہوتی چلی جاے گی اور جو وقت دیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک سیکنڈ بھی اضافی نہیں ملے گا تو یہ وقت بھی کام میں آجاے گا. مثلا.

عمر گزر رہی ہے. جوانی خرچ ہو رہی ہے. مال کمایا جا رہا ہے. اور خرچ بھی کیا جارہا ہے.کتابوں، بیانات، تجزیات، اور دیگر سے علم اور معلومات کا پہاڑ بھی حاصل کیا جا رہا ہے. صرف ہماری کمزوری ہے تو عمل کی اور یہ کمزوری ہم پر مختلف اقسام کی خوشنما پیکنگ میں لادی گئی ہے. سنا، پڑھا اور اپنے تجزیات کیے اور الله معاف کرے کہ کر اپنی دنیا میں لگ گئے. اور وہاں ہمارا ریکارڈ خراب کا خراب ہی رہا

اگر صرف یہی چیز سوچ میں شامل ہو جاے کہ دنیا کا مایہ ناز ڈاکٹر بھی ٹی وی یا کسی اخبار میں یہ بیان دے جس کو پیٹ میں درد ہو وہ چھ گولیاں بخار کی ایک ساتھ خالی پیٹ کھا لے تو سننے والا اپنے ڈاکٹر کے پاس جاکر مشورہ ضرور کرے گا کہ ایسا سنا ہے کیا یہ ٹھیک ہے؟ بیشک ٹی وی یا اخبار والا ڈاکٹر نوبل انعام یافتہ ہو. مگر آج کسی سے بھی کسی سنّت کا تذکرہ کیا جاے تو آگے سے دلیل آتی ہے کے فلاں چینل پر یا اخبار میں ایک بھانڈ نے کہا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہے . الله اکبر  غور کرنے کی بات یہ ہے کے ایک چھوٹا سا جملہ نظر سے گزرتا ہے 

"ادارہ ذمہ دار نہیں ہے "

تو شیطان بھی روز قیامت ہم پر ہنس رہا ہوگا اور مذاق اڑاے گا اور یہی کہے گا کیونکہ الله نے اسے وسوسہ ڈالنے تک محدود رکھا ہے عمل انسان کے اختیار میں ہے اور اسی پر سزا و جزا کا نظام ہے

.

Sunday, July 20, 2014

معلومات کی کثرت اور علم کا فقدان Sea of Knowledge and Lack of Wisdom

  
رمضان کے مہینے میں مصروفیات کے کم ہونے  وجہ سے مطالعاتی آوارہ گردی کرتا رہا. صرف طائرانہ نظر دوڑانے پر چکّر سا آ گیا. خدا کی پناہ پس منظر کے بغیر لوگ اپنے اپنے مطالعے کو حرف آخر سمجھ کر مواد کا پہاڑ کھڑا کر  رہے ہیں اور ٹی وی کے سامنے دن کا بیشتر حصّہ گزارنے والے یا مختلف قسم کے اخبارات چاٹنے والے بیچارے بینگن کی طرح لڑھکتے رہتے ہیں.

میں نے محسوس کیا (ہو سکتا ہے میں غلط ہوں) کے دنیا بھر میں لوگ ایک بنیادی چارٹر کو سامنے رکھتے ہیں اور پھر انھیں جو بھی معلومات دی جاے اسے اس پلڑے میں رکھ کر سوالات کرتے ہیں ، اب یہاں سوالات کے دو درجے ہو جاتے ہیں. سوالات براۓ بحث اور سوالات براۓ اصلاح. یہاں عمومی طور پر سوالات براے تنقید اور بحث کا رجحان زیادہ ہے کہ کسی طرح سامنے والے کی دلیل کو غلط اور اپنے موقف کو صحیح ثابت کر دیں.

بطور مسلمان ہمارا چارٹر کامل اور صحیح ترین ہے. شک کا ذرّہ بھی نہیں اور وہ  ہے قران مجید . تو اگر کسی کی بات کو تولنے کی نوبت آتی ہے تو قران کا پلڑا کامل ترین ہے. اب یہاں بات کو تھوڑا سا موضوع سے باہر لاتے ہیں. بطور مسلمان سب کا انتہائی مقصد کیا ہے؟ بیشک جنّت کو پانا اور جہنّم سے خلاصی. اور اس مقصد کے لیے الله نے اپنے محبوب سرور کائنات محمّد صل الله علیہ وسلّم کے ذریعے ہمیں بتا دیا کے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا.

اب اس بنیادی چارٹر کو خود پر لاگو کر کے ہر مسلمان آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کے میری بنیاد ٹھیک ہے یا نہیں؟ مثلا جھوٹ دھوکہ تہمت فریب کینہ بغض حسد یہ عام  بیماریاں ہیں جو مجھ سمیت اکثریت کے اندر ہیں. دوسرا حرام کا نوالہ مثلا سود شراب حرام کردہ چیزیں زنا  جو کے واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ آنکھ کان زبان اور ہاتھ سب کا ہوتا ہے اس سے کون کون محفوظ ہے اور اس سے آگے یہ پڑھنے والے خود بھی جانتے ہیں. تو اگر میری بنیاد میں یہ بیماریاں ہیں تو میں بحث  کے اگلے صفحے پر تو آ ہی نہیں سکتا.

اب اگر مسلمان جنّت میں جانا چاہتا ہے اور وہ  کہتا پھر رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں، دعا کرتا ہوں تو دعاؤں کے قبول نہ ہونے اور الله کی طرف سے جواب نہ آنے کی وجوہات تو واضح موجود ہیں. کینہ رکھنے والا، حرام کھانے والا ماں باپ کا نافرمان اور اس کے علاوہ دیگر. کیا ہم پہلی سیڑھی کے مسلمان بھی ہیں؟

آگے اس پر ستم یہ کے ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنا جو کے جھوٹا ہونے کی سب سے بری نشانی بتائی گئی. تو ہم اپنے اطراف میں دیکھیں کیا ہر جگا سے ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے آگے نہیں بیان ہو رہی؟  ٹی وی کی شکل میں، موبائل فون کی شکل میں، فیس بک کی شکل میں اور دیگر. جس طرح الله نے ہمارے لیے انعام رکھا ہے کے ہماری کہی ہوئی بات سے اگر کوئی سیدھے راستے پر آجاتا ہے تو اس کا اجر ہمیں بھی ملتا ہے بلکل اسی طرح اگر ہماری بغیر تحقیق کے آگے بڑھائی ہی بات سے اگر کوئی ایک بھی بھٹک جاتا ہے تو ہم خود اندازہ کریں کے کیا ہوگا. اور پھر بغیر تحقیق کے آگے بڑھائی ہوئی بات تہمت، الزام، غیبت ان سب چیزوں کی گندگی بھی اپنے اندر لیے ہے ہوتی ہے تو ہم اپنا کیا حال کر رہے ہیں؟

میرا ایک بہت اچھا دوست جو کہ فوج میں ہے، اور مجھ سے زیادہ محب وطن بھی ہے، جب اسکے منہ سے ایک مایوسی والا جملہ سنا   تو مجھے احساس ہوا کے حق اور سچ بیان کرنے کے ٹھیکے داروں نے اپنی نسلوں تک کو داؤ پر لگا دیا ہے. اور پیسہ ہی خدا بنا لیا گیا ہے. کیا بے شمار پیسے سے قبر کا عذاب ٹالا اور جنّت خریدی جا سکتی ہے؟ کتابوں اور آرٹیکلز کے ڈھیر پڑھنے کے بعد بھی ہم فکری طور پر لولے لنگڑے ہی ہیں؟

رائے زنی اور وہ بھی نامکمّل معلومات اور سطحی مطالعے کے ساتھ خطرناک اور نقصان دہ ہو جاتی ہے اور ویسے بھی ہم تو اب اتنے یتیم ہیں کے اپنی ہی معلومات کی تصدیق کے ذرایع محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ہم اپنی کی ہی تحقیق پر تنقید اور سوالات بھی برداشت نہیں کرتے. اگر آج اس چیز کی بنیاد ڈالتے ہیں تو کل اپنی نسلوں کے آگے سرخرو ہو سکیں گے ورنہ وہ خدانخواستہ  مزید بھٹکے گی اور ہم ہونق بن کر ان کو ڈوبتا دیکھتے رہیں گے...   .

Saturday, June 14, 2014

جھوٹ کی منڈی اور ادھار اور خیرات کی معاشرت


آج کل میڈیا کے حوالے سے کافی کچھ  کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے جس میں ہر شخص اپنی اپنی ذہنی بلندی اور پسماندگی بھی ظاہر کر رہا ہے ایک بہت مشہور  حدیث ہے جس کا مفہوم ہے کے انسان کے جھوٹا ہونے  کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دے 

کراچی ائیرپورٹ کے واقعے نے جہاں ہماری سیکورٹی پر کئی  سوالیہ نشان لگا دیے وہاں بطور قوم ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کا موقع بھی فراہم کیا کہ ہم اپنے آپ پر نظر دوڑا سکیں کے ہم خود کہاں  کھڑے ہیں. ٹویٹر پر ہر سیکنڈ میں آنے والی خبریں جو کے افراد کے   ساتھ ساتھ اداروں کی طرف سے بھی ہوتی تھیں، اگر آج ہم انہیں دوبارہ پڑھیں تو خود ہی شرمندہ ہو جائیں. کرنے والے کر کے چلے گئے مگر ہمیں یہ تک  پتا نہیں چلتا کے وہ کون تھے اور کیوں آئے تھے؟ اگر وو خود ہم پر احسان کر کے اپنا تعارف نا کرواتے. 

اخباروں کو دیکھیے، جنھیں ابھی پڑھنے کی ضرورت ہے وہ  لکھ رہے ہیں اور جو اچھا سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے وو بولتے ہوے پاے جا رہے ہیں. جسے دیکھیے اسلام کی تشریح کر رہا ہے اور جہاں نظر اٹھائیے مشکل مشکل الفاظ کا استعمال کر کے بیوقوف عوام کو مزید بیوقوف بنا رہا ہے. اور ہم جو کے بنیادی طور پر تالیاں پیٹنے والی قوم ہیں، وہ جی وہ بہت خوب کا اضافہ کر کے انہی چیزوں کو چاے خانوں اور پا ن کی دکانوں پر پہنچا رہے ہیں بغیر اس بات کا اندازہ کئے کہ بیچاری عوام اپنی پسند کا تجزیہ ہی تسلیم کرتے ہیں اور ذرا بھی ان کے ناپسندیدہ تجزیہ نگار یا میزبان کے منہ سے غلطی سے بھی سچ نکل جاے تو فوری طور پر فتویٰ صادر فرماتے ہیں. 

اگر ہم غور کریں تو ہم میں سے معاشرت کے ساتھ ساتھ شعور بھی ناپید ہوتا جا رہا ہے اب ہم کسی کی اخلاص سے کی ہی نصیحت کو بھی پہلے اپنے تجزیے کے ترازو میں تولتے ہیں اگر ہم آج سے دس پندرہ سال پہلے کی دوستیوں کا مشاہدہ کریں تو ہمیں صاف نظر آئے گا کہ ہم خود بھی خودغرضی کے دلدل میں کتنا  اندر اتر چکے ہیں. مرے ناقص خیال میں آج ہم کم از کم اپنے اطراف میں خصوصاً قریب میں اگر اخلاص اور خیرخواہی کو فروغ دے پاتے ہیں تو ہمارا معاشرہ اس دلدل سے زندہ بچ کر نکل سکتا ہے 

کرنا کیا ہے، صرف اپنے آپ کو سامنے والے کی جگا رکھ کر سوچنا ہے کے اگر کوئی قطار میں لگنے یا سرّک پر آگے نکلنے کی جستجو کرنے والے کو چند سیکنڈ کا توقف کر کے اس لئے راستہ دینا ہے کے شاید وو ہم سے زیادہ جلدی میں ہے یا ذہنی طور کسی شدید کھنچاؤ کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے. اسی طرح کی کوئی بھی مثال لے لیجیے.

اس سوچ پر بہت شرمندہ ہوتا ہوں کے کیا مشرق اب اس قدر بانجھ ہو چکا ہے  کے اپنے نوجوانوں کو صحیح  سمت یا اپنی بیٹیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفّظ نہیں دے سکتا ہم نے تو بڑوں سے سنا تھا کہ "آنے والے دور کے انساں ہم سے جینا سیکھیں گے" کیا ترقی صرف مادّی ہوتی ہے؟ دجال کٹ بال اور بے آستین کی قمیض ہی آپ کو ترقی یافتہ ثابت کرے گی؟ 

 ہم معاشرتی طور پر بھی سنی سنائی کے عادی ہوچکے ہیں. اپنی تاریخ بھی اگر وکی پیڈیا پر ملے گی تو ہم یقین کریں گے کچھ عرصہ پہلے جب وکی لیکس نے کچھ انکشافات کئے تو سب نے صفائیاں دینا شروع  کر دیں . ذہن میں اٹھنے والی خرافات کو صفحے پر لانے کی وجہ صرف یہ ہے کہ اگر تقلید ہی کرنی ہے تو ہمارے پاس کوئی ایسا نہیں جو مشعل راہ ہو؟ یا ہم فکری طور پر بلکل لولے لنگڑے ہیں کے ہمیں ہر انداز، ہر شعبے، ہر تشریح یہاں تک کے معاشرت بھی خیرات یا ادھار میں لینی پڑے گی. کیا ہم اچھے دوست، اچھے پڑوسی اور اچھے ساتھی  بن ہی نہیں سکتے؟

لغوی یا اصطلاحی غلطیوں کے لیے معذرت، اپنی اصلاح کے لیے ہمیشہ کھلا 

عبدل باسط یوسف

Sunday, June 1, 2014

Are we a Frustrated Nation?

It naturally happens to almost everybody when arrives from somewhere abroad, it seems very awkward when we compare ourselves with those we have just visited. Same thing always happened to me, but this time I feel it really intense and thought "Are we a frustrated nation"? Why it happened? Let me elaborate it in points :


1. When you exit from tube of aircraft, you see the different face of the same people who were with you at origin where we came from : like, they start talking loudly on cellphone, abusing, pretending themselves that they have been just returned from some kinda space or planet. Frustrated to be special, different and superior in any sense

2. When you see the authorities of of Airport, they seems like double-standard robots who react with everybody in a different way : smiling face in front of FOREIGN PASSPORT and STYLISH FOREIGNERS, creases on forehead in front of mediocre passengers, strict and professionals like in front of those who came here on holidays and many many more

3. Customs people shout at you as you are a criminal and smuggling drugs in Pakistan and they are PATRIOT SONS OF SOIL who are defending their soil from the criminals like us. Not a little piece of courtesy and riding all with same stick.

4. If you have some gifts for your family like, Video System, Laptops and Some Electronics that is normally allowed and logically not to sell/commercial purpose, then WARNING, HALT, these goods are suspicious and it contains a custom duty which we suppose to bypass intentionally and that is more than actual cost of good. When you seems afraid, then another business starts of bargaining.

5. When you SAFELY exit from the gate, then BEWARE of Taxi Drivers who are near to grab you with them and explain you why they are asking so much amount for that short distance travel.

After reaching home, when you start your routine life, you can observe the difference easily in first 2 3 days, coz after 2 or 3 days you'll indulge in this and then you won't see anything strange.

What you'll observe, remember you are a part of this now and you don't have STRANGER-LOOK, every seller will try to sell you at any cost by claiming his good superior than others. Uncontrolled traffic, everybody is abusing other without or on a nonsense reason. Police seems like robbers who stop you anywhere anytime without a reason and you'll feel that you are the only responsible for worst law and order situation and you are the only one because of whom this traffic is disturbed.

You'll see the mob who is demolishing the property of you and others like you, because of load shedding, blasphemy, some statement from a politician and target killing or whatever reason. They'll block the main roads in peak rush hours and rest of them will be finding the way to reach their destination and in this way finding exercise there will be many clashes and wrestling happens.
When (God Forbid) you'll face any robber on the road, you'll feel you're the only wealthy, satisfied and tension less person who is responsible for unemployment and let them commit a crime. They can shoot you even for Rs.500/- (I seen this in a news when I was abroad) and nobody can expect the justice for that blood-shed even you money and valuables. You'll be silent because you know nothing will happen and you have to face more botheration.


After a day long on your work, you'll behave like CHANGEZ and HALAAKU with your family, you'll be hating a little noise, over-reacting on innocent mistakes of kids after absorbing abuses, noise, fight, lies, threats, miscommitments and then your kids and spouse will throw it to near ones.......

So this chain will spread hatred all around in continuous motion day by day. Is it true?, Are we a frustrated nation? if YES, WHY??? Please comment

Wednesday, November 20, 2013

What is Shia and Sunni? - License to Kill

I have been reading different articles and columns regarding Rawalpindi from last couple of days. Every columnist and writer is trying to define the different base of Sunni/Shia division. One writer is saying that it is the invention of ANGREZ (British Govt.), another is saying it is created by Indian Businessmen (HINDU SETH) at the time of partition and somebody is saying this fire has been burnt by America.

What I have studied is totally different in the books of history AND/OR somebody else have something else to describe. But one thing is common... There is a difference.. Now the questions is.. Is this difference gives license somebody to Kill his opponent? If YES, from where and how?

For a moment, we suppose that some Sunni abused Shia or those whom they followed so would those Sunni should be killed, burned or slaughtered? vice versa, if some Shia abused so should they been killed?

If YES then who allowed both sides to do so? Those people who they follows? Did they ordered like if somebody abuse me my followers should kill them brutally and put everything on fire? even without inquiring who was guilty, what he stated and how?

So is it that easy to kill somebody on road by just shouting "He abused XYZ". and nowadays people strictly follow the "WAJIB" of "WAJIB UL QATL" instead of following thousand of  "WAJIBs" in Shariat. Who cares about the Salaah, Sunnah, Protection of Eyes and Tongue, Protection of Evil Desires, Music, Male/Female combined gathering that leads to Sin and many more...

We didn't even studied the right Islam, we even didn't know more than Namaz and Roza (Salaah and Fasting) I can bet that not even 5 from the gathering of 500 shouters (Type of people who only shout and destroy public property) on the road even know 10 Verses of Qur'aan with meaning and explanation or 10 Hadith with same. We don't even know what our Beloved Prophet SAAW have said about Liars.

Well, conclusion, Muslims have more priorities to do and spread than killing somebody in the name ABUSE and BLASPHEMY as if we do not KILL a blasphemist, there is a chance of TAUBA (His submission to Allah and reversal from Sins towards Good) but if we return ABUSE against ABUSE or Hatred against Hatred, we can't achieve our goals that has been defined by Beloved Prophet SAAW and all his Respected and honorable Companions RAA. May Allah guide us all to the Path of Righteous and his beloved ones.

Tuesday, October 22, 2013

Lets Laugh - (Plz must add your comments)


  • 1.  They say that love is more important than money, but have you ever tried to pay your bills with a hug?

    2.    Some people walk into our lives and leave footprints on our hearts. Others walk into our lives and we want to leave footprints on their face!

    3.    When my boss asked me who is the stupid one, me or him? I told him everyone knows he doesn't hire stupid people.

    4.    The ideal man doesn't smoke, doesn't drink, doesn't do drugs, doesn't swear, doesn't get angry, doesn't exist.

    5.    I hate it when people see me at the supermarket and they're like 'Hey, what are you doing here?' I tell them 'You know.. hunting elephants.'

    6.    Have you ever noticed that anybody driving slower than you is an idiot, and anyone going faster than you is a maniac?

    7.    If you think your boss is stupid, remember: you wouldn't have a job if he was any smarter.

    8.    How can you make sure you never miss your target? Shoot first, and whatever you hit, call it the target.

    9.    It's so simple to be wise. Just think of something stupid to say and then don't say it.

    10. If you don't succeed at first, hide all evidence that you tried.

    11. The man who smiles when things go wrong has thought of someone to blame it on.

    12. Insanity: doing the same thing over and over again and expecting different results. Like CLICK……CLICK CLICK CLICK

    13. Working in a team means spending half your time convincing the others that your idea is better than theirs.

    14. The most important thing in life is not knowing everything, it's having the phone number of somebody who does!

    15. Sometimes when I close my eyes, I can't see,

    16. Google earth view gives you the amazing chance to see amazing places all over the world, from the comfort of your own home. With this amazing privilege, what do most people look at? Their own house, their friends houses, and mostly places they have already been to!

    17. The probability of meeting someone you know increases a hundredfold when you're with someone you're not supposed to be seen with.

    18. Some cause happiness wherever they go; others whenever they go. 

Friday, October 4, 2013

اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
 
دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں؟
 
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہراک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
 
شاہیں جہاں تھا آج وہ کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملّا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے
 
مر مر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہراک شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
 
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و رُوباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
 
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندۂ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا ہم چھُٹ گئے اس بارِ گراں سے
 
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے
اُگتے ہیں تہِ سایۂ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تنِ خستہ پہ اب دانت ہیں سب کے
 
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانئ جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پرجو خودی کا
مر، مر کے جئے ہے کبھی  جی ، جی کے مرے ہے
 
دیکھو توذرا محلوں کے پردوں کواٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سو گئی طاؤس پہ آکر
 
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا توبڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کُھول کے دیکھا نہیں قرآن
 
کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈوھنڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
 
اقبالؒ تیرا دیس کہاں ہےکہاں جاؤں؟

Monday, September 30, 2013

Pics that made me speechless







I don't have anything to say. Just Speechless.

Wednesday, April 10, 2013

غوروفکر کےلیے بہت کچھ - A lot to think about

بیان کیا جاتا ہے کہ بغداد پر تاتاری فتح کے بعد، ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟ جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ دخترِ ہلاکو نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا حاضر کیا گیا۔
شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
 
عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
 
شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟

عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔

شہزادی: تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟

عالم: یقیناً کردیا ہے۔

شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟

عالم: نہیں

شہزادی: کیسے؟

عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟

شہزادی: ہاں دیکھا ہے

عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے بھی رکھ چھوڑے ہوتے ہیں؟

شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔

عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر دینے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟

شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔

عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟

شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
 
عالم: تو آپ تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہیں؛ جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، تب تک ہمارا امن چین تم ہم پر حرام کیے رکھوگے؛ ہاں جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
 
 مسلمان عالم کے اس جواب میں آج ہمارے غوروفکر کےلیے بہت کچھ پوشیدہ ہے!
۔
خدایا ہمارے اس بھٹکے ہوئے گلے کو اپنے در پر واپس آنے کی توفیق دے؛ عبادتِ طاغوت کی یہ اندھیری طویل رات ہم سے دور کردے۔

Monday, January 7, 2013

We and our Elders - Mindset and Gaps



What motivate me to write this is an experience at a hospital during night attendance with my aunt. Sometimes we irritate with our parents or the people aged 55+ due to their stubborn behaviors. For example they might ask you a single question again and again or after a long para they concludes the things on same question they asked so many times.

I observed that people after 55 feel himself free. Let me explain it by an example.

A father who retired at the age of 55, his sons and daughters are married and living a quite busy life in their families plus their jobs and businesses. They made themselves purely a social animal but with outsiders. They try to play an important role in the problems of their friends' circle and professional network.

Let me be a little out of topic here. In this fast era and with the emerging technologies we have lost our patience. We can't wait for results generated in its due course. We think that a headache should relieve in minutes after taking pills as we can reach anybody worldwide in a click or with our cellulars keypad or we edit a whole document, image or a chart in seconds and enjoy our desired modifications so our mindset, more or less, desires the same thing in those events that can't be.

Let's continue. So if a father's blood pressure shoot at midnight, our first approach or thinking would be like to give him the tablet or do something from our experiences or we had rad somewhere. In this case, the father take it seriously as our carelessness about him. He thinks that we are taking him light because we didn't seem worry at high. So when a son try to give him tablet and a glass of water in relax mode, he resist and force the son to take him to the hospital. Again when son argue about the early exercise to go hospital and explain him that he should have this tablet and wait a little so he goes normal then they both can spare themselves from that hassle as a BP is being a normal event nowadays.

Here it comes to the matter of debate or emotions. In father's mindset his son is not taking him seriously and giving him tablet with some explanations because he don't want to take him to hospital. And on another side, son is thinking that I should save my father from this movement until it is necessary.

Two scenes simultaneously happened to me. Doctor advised us to give my aunt a cough syrup as she was very uncomfortable due to cough and couldn't took proper nap but she was afraid that her cough increase due to that syrup. So when I force to take that syrup as doctor advised she over reacted and situation been difficult for me to handle as I can see her coughing abnormally so I had moved out of hospital to have a cigarette so I can normalize myself and there is another scene waiting for me to make me more learned.

There was a father and son at corridor and the son was roaming rapidly between pharmacy and doctor's chamber. As a listened the doctor's dialogue he was saying to the father " I am trying to help you at my best but you are irritating me, you are not ready to listen to a doctor and debating continuously. How your son manage to handle you?" And that father was again arguing the doctor. When I see the son, that gives me a new direction of thinking. I saw his father was arguing with pharmacist and his son used to say "Ok I'll do according to your wish. As you wish." And this particular sentence given father much relaxation. I seen him till end the son used to say this particular thing and smartly direct the father as per doctor's advice and the father was comfortable with this. So then I understood how his son manage to handle him.

I will conclude that it is all about protocol. If we will give proper protocol to our elders instead of imposing something, it would be quite workable in these kind of situations. When it comes to protocol we also expect it from our younger. So our approach is like we are seeking permission of elders and giving priority to his opinion then smartly draw him towards the requirement. Sometimes we have to wait patiently for desired result as human being can make effort only, rest is in the hands of Allah Almighty.